"> پانی کی کمی پاکستان کے لئے بڑا خطرہ بن رہی ہے | HamaraPedia.com window.dataLayer = window.dataLayer || []; function gtag(){dataLayer.push(arguments);} gtag('js', new Date()); gtag('config', 'UA-152948917-1');

پانی کی کمی پاکستان کے لئے بڑا خطرہ بن رہی ہے

Imran-Noor

پانی زمین پر قدرت کی جانب سے عطا کردہ ایک انتہائی اہم ترین نعمت ہے۔ انسان، جانور، چرند پرند، درختوں، پودوں سمیت ہر جاندارکو زندہ رہنے کے لئے پانی اشد ضروری ہے۔ اقوا مِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ہر انسان روزانہ دو سے چار لیٹر پانی پیتا ہے جس میں خوراک میں موجود پانی بھی شامل ہے۔ انسانی جسم کا 60 فیصد حصہ پانی سے بنایا گیا ہے، کرہ ارض کی 71 فیصد سطح پانی سے ڈھکی ہوئی ہے جبکہ دنیا کے تمام پانی کا 96۔ 5 فیصد حصہ سمندری پانی پر مشتمل ہے۔ موجودہ صدی میں زمینی ماحولیات کو درپیش مسائل میں قلتِ آب کا مسئلہ کرہ ارض کو درپیش سنگین مسائل میں سے ایک مسئلہ بن چکا ہے جس کی سنگینی کا تجزیہ کرتے ہوئے خصوصاً گزشتہ ایک دہائی سے عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں معاشروں اور قوموں کے مابین جنگیں پانی کے مسئلے پر لڑی جائیں گی۔

آب حیات ہے یہی وجہ ہے کہ تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دنیا کی تہذیبوں کا ارتقاء دریاؤں کے کنارے آبادیوں کے بسنے سے شروع ہواجس کا ذکر معروف محقق ول ڈیورنٹ نے اپنی کتاب تمدن کی کہانی میں کرتے ہوئے کیا کہ ہندوستان میں دریائے سندھ، گنگا اور برہم پُترا نے یہاں کی تہذیبوں کو جنم دیا، چینی تہذیب کو پروان چڑھانے میں چین کے دریاؤں کا اہم کردارہے، مصر دریائے نیل کے تحفے کے نام سے مشہور ہے تو عراق کے دریاؤں کے کناروں سے بھی بہت سی تہذیبوں نے جنم لیا ہے، جب یونانیوں کی آبادی میں اضافہ ہوا جس سے ان کی مشکلات میں بھی اضافہ ہونے لگا تو وسائل کی کمی کو پورا کرنے کے لئے انہوں نے بحیرہ روم، بحیرہ اسود اور بحیرہ بوسین کے ساحلوں پر اپنی نو آبادیات قائم کیں، اسی طرح اٹلی میں دریائے ٹائبر، آسٹریا میں دریائے ڈینوب، جرمنی میں دریائے ایلب اور رہائن اور فرانس کی تہذیبیں دریائے سین کے کنارے پنپتی اور پھلتی پھولتی رہیں۔ زرخیز خطوں اور پانی کی فراہمی پر اپنی اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے مختلف وقتوں سے لے کر آج تک مختلف قومیں ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔

بیسویں صدی کے آخری عشروں میں گلوبل وارمنگ، آلودگی، موسمی تغیرات اور قلتِ آب کے مسائل سامنے آئے جن میں تیز رفتاری سے دنیا بھر میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
ماضی قریب میںکیے جانے والے ایک گلوبل واٹر سروے کے مطابق چین جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اس کے پاس مجموعی پانی کا صرف 7 فیصد ذخیرہ ہے۔ مشرقِ وسطی کی مجموعی آبادی کو صرف ایک فیصد پانی میسر ہے۔ بھارت دنیا میں آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے وہاں بھی پانی کا مسئلہ سنگین تر ہوتا جا رہا ہے اور جنوبی بھارت میں پانی کی کمی کی وجہ سے کئی غیر ملکی کمپنیاں اپنا سرمایہ باہر لے جا چکی ہیں۔ پانی کے اس بحران پر قابو پانے کے لئے بھارت پانی حاصل کرنے کے دیگر ذرائع کے ساتھ پانی کے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر کے پاکستان کا پانی مختلف وقتوں میں چوری کرتا اور روکتا چلا آرہا ہے۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق دنیا پر تقریباً ایک صدی تک تیل جسے ماہرین نے بلیک گولڈ قرار دیا ہے کی حکمرانی رہی لیکن پانی جسے ماہرین ماحولیات کی بڑی تعداد نے نیلا سونا قرار دیا ہے کے مطابق دنیا پر اب ”نیلا سونا ‘‘حکمرانی کرے گا۔ عرب دنیا میں بھی پانی کمی کے باعث آنے والے وقتوں میں پریشانیاں بڑھتی نظر آرہی ہیں جس سے نمٹنے کے لئے قطر نے دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ ِآب تعمیر کرنا شروع کر دیا ہے، کینیڈا سو سال تک کے لئے پانی ذخیرہ کرچکا ہے اور پانی ذخیرہ کرنے پر اس کا مزید کام جاری ہے۔ کینیڈا میں 80 ہزار کیوبک میٹر پانی ہر شہری کے لئے دستیاب ہے جبکہ امریکہ میں ہر شہری کے لئے 8 ہزار کیوبک میٹر پانی دستیاب ہے۔ ایران، افریقہ اور عرب ممالک میں صاف پانی کی شدید قلت نے معاشی اور سماجی طور پر پریشان کن ہلچل پیدا کر رکھی ہے۔ افریقہ کے بیشتر ممالک میں خشک سالی کی وجہ سے ہزاروں افراد کی ہلاکتیں اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ہے اس کے علاوہ ایتھوپیا اور کینیا کے بیچ پانی کا تنازع بھی دنیا کے سامنے ہے۔
چند سال قبل 40 ممالک نے ایک مشترکہ درخواست میں اقوامِ متحدہ کو پانی کی قلت کے مسئلے کو عالمی ایجنڈے میں سرِ فہرست شمار کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے ماحولیات کا ادارہ اپنی ہر تحقیقی رپورٹ میں پانی کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتا چلا آرہا ہے۔ کچھ سال قبل شائع ہونے والی عالمی ادارہ ماحولیات کی ایک رپورٹ کے مطابق سالانہ تقریباً 4 ہزار کیوبک کلومیٹر صاف پانی کُرہ ارض سے کم ہوتا جا رہا ہے اور پانی کے بحران کی وجہ سے دنیا کی آبادی کا 18 فیصد حصہ صاف پانی سے محروم ہوچکا ہے اور اکثریت گدلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے جس کی وجہ سے خاص کر بچوں میں پیٹ کی بیماریاں بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں اور ہر بیس سیکنڈ میں ایک بچہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آلودہ پانی پینے سے ہونے والی بیماریوں سے سالانہ 35لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

پانی کی اہمیت کے پیشِ نظر پانچ ہزار سال قبل ہی تہذیب یافتہ قوموں نے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے مصنوعی جھیلیں، تالاب اور نہری نظام تعمیر کرنے کے طریقے ایجاد کر لئے تھے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ گزشتہ 70سالوں میں پاکستان کے اربابِ اختیار طبقے کے بیشتر افراد آج تک 5000 ہزار سال قبل کی سوچ و عمل رکھنے والے لوگ ثابت ہوتے چلے آرہے ہیں کیونکہ پاکستان میں 1960 ء کے بعد سے اب تک کسی بڑے ڈیم کی تعمیر کا کام شروع نہیں کیا گیا ہے جبکہ صرف 2002ء سے لے کر اب تک بھارت پاکستان آنے والے دریاؤں پر 52 سے زائد ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔ پاکستان میں دو ہی بڑے ڈیم ہیں تربیلا اور منگلا ان میں بھی سطح آب انتہائی نچلی سطح پر ہے۔

آئی ایم ایف کی تازہ ترین شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں قلتِ آب کے شکار ملکوں میں پاکستان تیسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے جس کی وجہ پانی ذخیرہ نہ کرنا اور اس کا نامناسب استعمال ہے۔ پاکستان میں 1951ء میں ہر شہری کے لئے پانچ ہزار چھ سو کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو اب کم ہوکر ایک ہزار کیوبک میٹر سے بھی کم رہ گیا ہے اور اگر تیزی سے بگڑتی صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو ماہرین کے مطابق 2025ء تک پانچ سو کیوبک میٹر پانی ہر شہری کے لئے دستیاب ہو گا جو قحط زدہ افریقی ممالک صومالیہ، کینیا، ایتھوپیاسے بھی کم ہوگا۔

22 مارچ پانی کے عالمی دن کے موقع پر جامعہ کراچی میں مقررین نے بھی اس انتہائی تشویش ناک صورتِ حال کی جانب نشان دہی کی ہے کہ اگر مذکورہ خراب ترین صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو پاکستان میں اگلے بیس سال بعد یعنی 2038ء میں چالیس فیصد عوام کو پانی دستیاب نہیں ہوگا۔ یہ صورتحال پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور اگر اس جانب فوری عملی توجہ نہیں دی گئی تو یقیناً کسی دشمن ملک کی کارروائی کے بغیر ہی پاکستان اور اس کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہولناک جانی ومالی تباہی سے دوچار ہوسکتا ہے۔

پاکستان کا 90فیصد پانی زراعت اور آبپاشی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور آج بھی ملک میں دہائیوں پرانا آبپاشی کا نظام چل رہا ہے جس کی بدولت ایک اندازے کے مطابق 45 فیصد پانی ضائع ہوتا ہے اس کے علاوہ پاکستان میں عام آدمی صاف پانی کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہے، وہ جتنا پانی استعمال کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ پانی ضائع کرتا ہے۔

آلودہ پانی پینے کے باعث پاکستان میں ہر سال52 ہزار بچے اسہال، ہیضے اور دیگر بیماریوں سے جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 80 فیصد بیماریاں آلودہ پانی پینے کے باعث ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صرف 15 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے اور 85 فیصد عوام آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔

اب جب کہ پاکستان بھی قلتِ آب کے مسئلے کی شدید لپیٹ میں آچکا ہے اور پانی کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہے تو ضرورت اس امر کی ہے پاکستان میں قلتِ آب کے اس سنگین مسئلے کو قومی سلامتی کے مسئلے سے تعبیر کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں ملک بھر میں چھوٹے ڈیمز بنانے کی قرار داد بھی پاس ہو چکی ہے اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ پاکستان میں شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخواہ، بلوچستان، آزاد کشمیر، شمالی پنجاب اور سندھ میں ایسے ہزاروں قدرتی مقامات ہیں جنہیں چھوٹے، بڑے ڈیموں میں تبدیل کر کے مون سون کی بارشوں کا پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے لہذا مذکورہ سنگین ترین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پانچ سال کا ٹارگٹ رکھ کر ملک بھر میں چھوٹے، بڑے ڈیمز بنانے پر فوری طور پر تیزی سے عملی کام شروع کیا جائے۔

اس کے علاوہ ملک بھر میں پانی کی اہمیت کو اُجاگر کرنے، پانی ذخیرہ کرنے، پانی کے ضیاع کو روکنے اور پانی کا درست استعمال کرنے کی مہم کو اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں سے لے کر زندگی کے ہر شعبہ ہائے جات میں مسلسل جاری رکھنے خصوصا پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر اس کی بھرپور تشہیر کو روزانہ کی بنیاد پر مسلسل نشر اور شائع کرنے سمیت پانی کی مینجمنٹ کا نظام بنانے، واٹر سیکیورٹی سسٹم بنانے، نہری نظام کو پختہ بنانے، پانی کے درست استعمال اور اس کے ضیاع کو روکنے کے لئے”رین گن‘‘، ”ڈرپ واٹر سسٹم‘‘ متعارف کرانے، شہروں، دیہاتوں میں زیرِ زمین پانی کے ذخیروں کو ریچارج کرنے، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگانے، سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لئے پلانٹس لگانے اور ہر جگہ کے ماحول کے مطابق مسلسل سالانہ اربوں درخت لگانے کی مہم کا فوری آ غاز کرنے کی شدیدضرورت ہے اور مذکورہ ملکی و قومی مفاد کے کاموں کا عملاً جلد آغاز کرکے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے موجودہ اور مستقبل کے پاکستانی اربابِ اختیار طبقے کی نیک نیتی، مخلصی، بے لوثی اور دیانتداری اشد ضروری ہے۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.