کچھ آج اور کل کے شاعروں کے بارے میں

میں نے محسوس کیا ہے کہ ہمارے شاعروں ، ادیبوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں اپنے ملکی حالات یا بین الاقوامی صورتحال میں ہونے والی تبدیلیوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اگروہ شاعر ہیں تو انہیں محض یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کی شہرت میں اضافہ ہو اور انہیں ملک الشعراء کے منصب پر فائز کردیا جائے۔ ان میں سے تین چار کو تو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں۔ انہیں اگر یہ کہاجائے کہ تم اگر تتے توے پر بیٹھ جائو تو تمہاری بلے بلے ہوجائے گی اور تمہارے ہم عصروں کا جل بھن کر براحال ہو جائے گا تو میرا خیال ہے وہ اپنے ہم عصروں کو جلانے کے لئے اپنی وہ جگہ تتے توے پررکھ دیں گے جس کے جلنے کی بو تو ان کے ہم عصروں تک ضرور پہنچے گی خواہ وہ خود جلیں یا نہ جلیں۔ یہ لوگ نام و نمو اور شہرت کے حصول کے ضمن میں ؎

attaul-haq-qasmi

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا کے اصول کے قائل ہیں۔ ان میں سے ایک صاحب جو واقعی اچھے خاصے شاعر تھے اور ایک زمانے میں مقبول بھی تھے مگر وہ اس مقبولیت سے مطمئن نہ تھے چنانچہ انہوں نے ایک ٹی وی شو میں بھانڈ کے طور پر کام کرنا شروع کردیا جس میں ان کے ’’ہم عصر بھانڈ‘‘ انہیں باقاعدہ جوتیاں مار کر ناظرین کو ہنساتے تھے۔ ایک اور صاحب جنہیں میں جانتا ہوں بدقسمتی سے وہ کبھی مقبول بھی نہیں رہے تھے، ان دنوں ہر صاحب عزت کو گالیاں دیتے ہیں۔ ان کوبھی جن کےپاس وہ ایک اعلیٰ ملازمت کےحصول کے لئے اپنی سی وی چھوڑ کر آئے تھے اور آئے روز ٹیبل کے آرپار ان کے سامنے والی کرسی پربیٹھے ان کی کچھ اتنی بری خوشامد کرتے تھے کہ وہ صاحب ان کی آمد کا سن کر اپنے دفتر سے فرار ہو جاتے تھے۔

چلیں یہ تو وہ مریض ہیں جو لاعلاج ہیں مگر عام طور پر یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی شاعر کو آپ دس گالیاں دے لیں وہ شاید آپ کو معاف کردے لیکن اگر آپ نے اس کی غزل کو برا کہا تو یہ دشمنی سات نسلوں تک چلے گی۔ مشاعروں میں ایک بہت دلچسپ منظر دیدنی ہوتا ہے جب صاحب ِ نظامت شعرا کی تقدیم و تاخیر کا تعین کررہا ہوتا ہے اور تقدیم و تاخیر کے حوالے سے حساس قسم کے شاعروں کی جان پر بنی ہوتی ہے۔ اس موقع پر اگر کسی شاعر کو اس مقام پر نہ پڑھایا جائے جو اس نے خود کے لئے خود ہی متعین کیا ہوتا ہے تو وہ مشاعرے سے واک آئوٹ کر جاتا ہے تاہم ٹی وی یا معقول معاوضوںوالے مشاعروں میں صبر و تحمل سے کام لینا مناسب سمجھا جاتا ہے۔ ایک شاعر نے منیرنیازی سے پوچھا کہ ’’منیر صاحب! شاعری میں میرا مقام کیا ہے؟‘‘ منیرنے جواب دیا ’’جو سچے ولیوں میں کسی جھوٹے ولی کا ہوتا ہے۔‘‘ منیر بہت بڑے شاعر تھے اور وہ میرے پسندیدہ شعرا کی صف ِ اول فہرست میں آتے ہیں مگر وہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کو کم کم ہی شاعر مانتے تھے۔ فیصل آباد کی ایک محفل میں ہم سب گپ شپ میں مشغول تھے۔ منیر نے اپنی مرحومہ بیگم کے بارے میں کہا ’’وہ بہت خدا پرست عورت ہے۔‘‘ ریاض مجید پاس ہی بیٹھے تھے، بولے ’’جس کا میاں اتنا خودپرست ہو اس کی بیوی نے خداپرست تو ہونا ہی ہے۔‘‘ میں تھوڑا سا موضوع سےہٹ جائوں گا مگر جب منیرنیازی کا ذکر چھڑے تو پھراتنی جلدی ختم کرنے کو جی نہیں چاہتا….. ایک مشاعرےمیں ایک راہگیر چلتا چلتا یونہی اندر آگیا۔ اسے منیر نیازی نظرآئے تو ان سےپوچھا ’’آپ بھی شاعر ہیں؟‘‘ منیر نیازی نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا ’’نہیں، میں قتیل شفائی ہوں۔‘‘

تو چلیں اب دوبارہ موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔ میں نے اوپر کی سطور میں جن من موجی شعرا کاذکر کیا اس سے آپ کہیں یہ اندازہ نہ لگائیں کہ آج کے شعرا کو قومی اور بین الاقوامی حالات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔ میرے خیال میں وہ شاعر ہی نہیں جو اردگرد کے حالات سے آنکھیں بند کرکے اپنی ذات کے خول میں بند ہو کر رہ جائے چنانچہ آپ کسی بھی اچھے یا برے (الا ابلیس) شاعر کا کلام پڑھیں آپ کو اس میں سوچ اور درد کی ایک لہر دکھائی دے گی۔ البتہ عملی جدوجہد یا واضح کمٹمنٹ آج کے شعرا میں کم کم دکھائی دیتی ہے۔ ادیبوں اور شعرا کی عملی جدوجہد اور واضح کمٹمنٹ صرف دو تحریکوں میں نظر آئی ایک بھٹو کے خلاف نظام مصطفیٰ ؐ کا نام استعمال کی گئی تحریک میں اور یا پھر بھٹو کے عدالتی قتل پر….. ان دنوں پھر عدالتی نظام پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں مگر ان سوالات کے خلاف یا حق میں کوئی شعری آواز سنائی نہیں دے رہی۔ اس وقت میری شاعر برادری سارا میچ خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ جب گول ہوگا تو پھر ہائے وائے کی آوازیں سنائی دیں گی!

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.