کشمیر سے افغانستان تک موت کا وحشیانہ کھیل

shahana-javed

اپریل کا مہینہ بہار کا مہینہ لیکن یہ کیسی بہار ہے جہاں ہر طرف لال، سرخ رنگ کے پھول کھلے ہوئے ہیں، مسلمانوں کے خون سے رنگے پھول چاہے وہ کشمیر میں یا فلسطین میں یا افغانستان میں۔ یہ لہو ہم سے پوچھ رہا ہے کیوں ناحق مجھے بہایا جارہا ہے، ہے کوئی انھیں روکنے والا۔ بھارت نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں موت کا وحشیانہ کھیل کھیلا ہے، بھارت کے فوجی درندے جنھیں پیلٹ گن کے استعمال کا لائسنس مودی سرکار نے دیا ہوا ہے جبکہ اقوام متحدہ نے بھی اس گن کو استعمال کرنے سے روکا ہے۔ یہ وہ گن ہے جس سے نہتے کشمیری مسلمانوں کی آنکھوں کو ضائع کرکے بھارتی سرکار سمجھتی ہے وہ کشمیریوں کی آنکھوں سے آزادی کا خواب دیکھنا چھین لے گی لیکن وہ مظلوم کشمیریوں کی بے نور آنکھوں سے کشمیر کی آزادی کا سپنا نہیں چھین سکتی کیونکہ کشمیر کی آزادی ان کے دل ودماغ سے کوئی نہیں نکال سکتا، ان کےجذبہ آزادی کے آگے سب کچھ ہیچ ہے۔

گزشتہ دنوں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں وحشیانہ فوجی آپریشن میں پیلٹ گن اور آنسو گیس کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجے میں 17 کشمیری شہید اور زخمی ہو گئے، انٹرنیٹ اور ریل سروس بھی بند کردی، شوپیاں اور اسلام آباد ( اننت ناگ) کے اضلاع میں محاصروں اور سرچ آپریشن ، مظاہرین اور جنازوں کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا اس دوران براہ راست فائرنگ کے علاوہ پیلٹ گنز اور آنسو گیس کی شیلنگ کا آزادانہ استعمال بھی کیا گیا۔ پاکستان کے تمام بڑے لیڈران، آرمی چیف، اپوزیشن اور حکومتی جماعتیں سب ایک آواز ہوکر اس ظلم کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں اور وفاقی کابینہ نے 6 اپریل کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا۔

یہ سب اقدام اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن اب ظلم وستم کا خاتمہ ہونا چاہیے، کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ملنا چاہیے اس طرح ان کی نسل کشی کی اجازت نہیں دی جاسکتی، بھارت اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ کھل کر سامنے آگیا ہے، امریکہ، بھارت اور اسرائیل مل کر اپنے وحشیانہ عزائم کو پورا کرنے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اسی دن اسرائیل نے غزہ میں بمباری کرکے تیس سے زائد فلسطینی شہید کردیے، امریکہ نے افغانی افواج کے ساتھ ملکر مدرسے پر بمباری کی ایک سو پچاس سے زیادہ طالبعلم اور عام شہری شہید ہوئے۔ مسلمانوں کا خون اتنا ارزاں ہوگیا جو اس طرح بہایا جارہا ہے اور ہم مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔ بات یکجہتی دن منانے سے آگے نکل چکی ہے اب کوئی ٹھوس قدم اٹھانا ہوں گے۔

اقوام متحدہ کا ادارہ سلامتی کونسل سو رہا ہے یا پھر وہ مسلمانوں کی سلامتی کے لیے نہیں ہے کیا مسلم ممالک کو اپنی سلامتی کونسل الگ بنانی ہوگی۔ اب ایسے یک طرفہ فیصلے نہیں چلیں گے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں جاگو اور اقوام متحدہ کو مجبور کرو کہ وہ انصاف کریں، اس دہشت گردی کہ خلاف متحد ہوکر اس کے خلاف آواز اٹھائیں ، ورنہ یہ آگ تمام امت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور کوئی اپنا دامن نہیں بچا سکے گا۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.