پشتون تحفظ تحریک کی مخالفت میں اضافہ

پاکستان میں اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ جب بھی کوئی نئی تنظیم حکومت اور ریاستی اداروں کی پالیسیوں کو چیلنج کرتی ہے اور عوام میں اس کو پذیرائی ملتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ایسی تحریکوں کے خلاف پروپیگنڈے کا آغاز بھی کر دیا جاتا ہے۔

شاید آج کل یہی کچھ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سے جنم لینے والی نوجوانوں کی تنظیم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔

پی ٹی ایم نے آٹھ اپریل کو پشاور شہر میں اپنا پہلا بڑا جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے جس کے لیے کئی دنوں سے تیاریوں اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم اس دوران فاٹا اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی ایم کے خلاف مہم میں بھی تیزی آ رہی ہے اور اس مہم میں بیشتر وہ تنظیمیں شامل ہیں جو عام طور پر غیر معروف سمجھی جاتی ہیں۔

لیکن حیران کن طور پر اس مخالفانہ مہم میں خود کو جمہوریت پسند جماعت کہنے والی پیپلز پارٹی بھی شامل ہو گئی ہے۔

گذشتہ روز قبائلی علاقے مہمند اور کرم ایجنسیوں میں پیپلز پارٹی کی طرف سے پشتون تحفظ تحریک کے خلاف مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس میں پارٹی کی ایجنسی سطح کی قیادت نے شرکت کی۔

مظاہرین نے اس موقعے پر فوج اور سکیورٹی فورسز کے حق میں نعرے بازی کی اور پی ٹی ایم کی سرگرمیوں کو پشتونوں کے خلاف ایک سازش سے تعبیر کیا۔

پشاور میں پیر کو پاکستان زندہ باد تحریک نامی ایک غیر معروف تنظیم کی جانب سے ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجتی کے طور پر ایک ریلی کا اہتمام کیا گیا جس کی سربراہی تحریک انصاف کے باغی رکن صوبائی اسمبلی جاوید نسیم نے کی۔

انھوں نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ اس ریلی کا بنیادی مقصد افواج پاکستان اور ریاستی اداروں کی قربانیوں کو عوام کے سامنے لانا اور بیرونی ایجنڈے پر عمل پیرا عناصر کو بےنقاب کرنا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے دیگر شہروں اور فاٹا میں بھی پاکستان زندہ باد تحریک کی طرف سے جلوسوں اور مظاہروں کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے جن میں فوج اور ریاستی اداروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جا رہی ہے۔

پشتون تحفظ تحریک کے رہنما اور عوامی نیشنل پارٹی یوتھ ونگ کے سابق صدر محسن داوڑ کا کہنا ہے کہ ‘یہ تو پرانا طریقہ کار ہے اور سب کو بخوبی معلوم ہے کہ یہ کس کے کہنے پر ریلیاں نکال رہے لیکن یہ حربے اب پرانے ہو چکے ہیں اس کے بارے میں عوام جان چکے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ پی ٹی ایم ایک عوامی تحریک بن چکی ہے جس کو اب کوئی طاقت نہیں روک سکتی جب تک کہ ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔ انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ علاقوں میں پیپلزپارٹی کی طرف سے بھی ان کے خلاف مظاہروں کا انعقاد کیا گیا ہے۔

محسن داوڑ کے مطابق بلاول بھٹو زداری نے بنوں میں ہونے والے حالیہ جلسے میں پی ٹی ایم کے مطالبات کی حمایت کی تھی اور انھوں نے اپنی تقریر میں اس کا ذکر کیا تھا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ احتجاج پی پی پی کی مقامی سطح کے رہنماؤں نے کیا ہو، ورنہ مرکزی قیادت تو ان کی تحریک کی حامی ہے۔

سوال یہ ہے کہ غیر معروف تنظیمیں کیسے وجود میں آتی ہیں اور ان کے پیچھے کون کون سی درپردہ قوتیں کام کرتی ہیں؟

اسلام آباد میں مقیم سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر خان کا کہنا ہے کہ شاید اب اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں رہی کہ یہ درپردہ قوتیں کون سی ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘ماضی میں یہ حکمت عملی چلتی رہی ہے کہ دبانے کی خاطر لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا یا ان پر تشدد کیا جاتا تھا، بلکہ بعض صورتوں میں لوگ قتل بھی ہوئے لیکن شاید اب یہ پالیسی نہ چل سکے کیونکہ اب شاید عوام کا ردعمل اس سے بڑھ کر ہو سکتا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ اگر ماضی میں ریاستی اداروں یا حکومت سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو اس کا ازالہ کیا جانا چاہیے نہ کہ پھر سے غلطی پر غلطی دہرائی جائے۔

ایک سوال کے جواب میں طاہر خان نے کہا کہ بعض سیاسی جماعتوں کو غالباً خیال ہے کہ ایسی تحریکوں کی مخالفت کر کے ان قوتوں کی ہمدردی حاصل کی جا سکتی ہے جو حمایت کے بدلے میں ان کو اقتدار میں کچھ حصہ دے دیں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی گذشتہ کچھ عرصے سے ایسے ہی پیغامات دے رہی ہے۔

خیال رہے کہ پشتون تحفظ تحریک کچھ عرصے سے پشتون بیلٹ بالخصوص فاٹا میں لاپتہ افراد کی بازیابی، سکیورٹی چیک پوسٹوں اور بارودی سرنگوں کے فوری خاتمے کی مطالبات کرتی رہی ہے۔ ابتدا میں اس تحریک کی پشتون قوم پرست جماعتوں کی جانب سے کھل کر حمایت کی گئی تاہم اس کی تیزی سے مقبولیت میں اضافے سے ان پارٹیوں کو کمزور ہونے کا خدشہ لاحق ہوا، لہٰذا ان کے کارکن اب اس کی کھل کر حمایت نہیں کر رہے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ اس تنظیم کی ابتدا میں سب سے زیادہ حامی سمجھی جانے والی پشتون قوم پرست جماعت عوامی نیشل پارٹی کے بعض اہم رہنما اب بھی اس تحریک کے درپردہ حامی بتائے جاتے ہیں، تاہم اکثریتی قیادت اس کی مخالف ہے۔ شاید اس کی وجہ پی ٹی ایم کا حکومتی اور ریاستی اداروں کے بارے میں اپنایا جانے والا موقف ہے جو ابتدا ہی سے انتہائی سخت رہا ہے۔

تاہم حالیہ دنوں میں اے این پی کی جانب سے اب انہی مطالبات کے حق میں آواز بلند کی جارہی ہے جو پی ٹی ایم کرتی رہی ہے۔

 

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.