وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر افغانستان کا شدید احتجاج، افغان سفیر کی ملک واپسی

وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر افغانستان کا شدید احتجاج، افغان سفیر کی ملک واپسی

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان میں نگراں حکومت کے بارے میں بیان پر افغان حکام نے شدید احتجاج کا اظہار کرتے ہوئے کابل میں پاکستانی سفیر کے ڈپٹی کو احتجاج کے طور پر وزارت خارجہ طلب کیا اور بعد ازاں اسلام آباد سے اپنے سفیر عاطف مشعل کو مشورے کے لیے واپس کابل بلا لیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر کے مطابق افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے دیے گئے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتی ہے اور ایسے بیانات واضح مثال ہیں کہ پاکستان افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور افغان عوام کی خودمختاری کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد نے بھی ایک ٹوئٹر پیغام میں وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ افغانستان کا مستقبل صرف افغان عوام کے لیے ہے اور یہ فیصلہ صرف افغان ہی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی اخبار ڈیلی ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر اعظم عمران نے 25 مارچ کو اسلام آباد میں بعض صحافیوں سے ملاقات میں کہا تھا کہ افغان حکومت افغان امن مذاکرات میں رکاوٹ ہے اور طالبان سے بات چیت کے لیے افغانستان میں نگراں حکومت بننی چاہیے۔

تاہم پاکستانی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اُنھوں نے افغان طالبان سے حال ہی میں ایک ملاقات افغان حکومت کی خواہش پر ملتوی کی، جن کو اس ملاقات پر اعتراض تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد افغانستان میں نہ صرف حکومت بلکہ افغان سیاستدانوں نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کے خلاف صدارتی انتخابات کے اُمیدوار حنیف اتمر، سابق صدر حامد کرزئی، پاکستان میں سابق افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال سمیت کئی سیاستدانوں نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو افغانستان کے اندرونی معاملات میں سازش قرار دیا ہے۔

سابق افغان صدر حامد کرزئی نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’وزیر اعظم عمران خان کا افغانستان میں نگراں حکومت کے حوالے سے بیان ہمارے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی ہے اور میں حکومت پاکستان اور دیگر کو جو دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے خواہاں ہیں، تجویز دیتا ہوں کہ باہمی خودمختاری کا احترام اور باوقار تعلقات کے لیے آگے بڑھیں۔‘

یاد رہے کہ اس سے پہلے 15 مارچ کو خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں بھی عمران خان کے ایک ایسے ہی بیان پر افغان حکومت نے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کابل میں پاکستان کے ایک سفارتی اہلکار کو احتجاج کے طور پر وزارت خارجہ طلب کیا تھا۔

باجوڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں جس کے بعد ایک ایسی حکومت بنے گی جس میں سارے افغان شامل ہوں گے اور جنگ ختم ہو گی۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.