مسرت زیب، ضیاالدین یوسف زئی اور ملا فضل اللہ: حیرت انگیز انکشافات

Unexpected things

مسرت احمد زیب پاکستان تحریک انصاف کی ایم این اے ہیں۔ وہ ملالہ پر طالبان کے حملے کا بھانڈا پھوڑنا چاہتی تھیں تو انہوں نے اپنی پارٹی کی لیڈرشپ سے باقاعدہ مشورہ کیا۔ پاکستان تحریک انصاف ہوم ورک پر بہت یقین رکھتی ہے اور کوئی بھی بیان اس وقت تک جاری نہیں کرتی جب تک اس کی مکمل تحقیق نہ کر لے۔ تمام ثبوت جمع کرنا اور ان کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کرنا پاکستان تحریک انصاف کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس تحقیقاتی سیل کے انچارج جناب نعیم الحق صاحب ہیں۔ پہلے سازشوں کو بے نقاب کرنے میں ان کا نمبر پہلا تھا لیکن اب وہ جلد ہی مسرت زیب صاحبہ کے حق میں دستبردار ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

تو ہم بات کر رہے تھے ملالہ پر طالبان کے حملہ کے ڈرامے کی۔ جب محترمہ مسرت زیب صاحبہ نے سٹوری بریک کرنے کی اجازت چاہی تو عمران نے انہیں نے فورا ملاقات کے لئے بلا لیا۔ مسرت زیب صاحبہ جونہی میٹنگ روم میں پہنچیں تو عمران خان نے گڑ کے دو بسکٹ منگوائے۔ ایک وہ خود کھانے لگے ایک ساتھ کے صوفے پر بیٹھے ہوئے شیرو کو تھما دیا۔ وہ ہمہ تن گوش ہوئے اور زیب صاحبہ کو بولنے کی دعوت دی۔ عمران خان نے صرف ایک دفعہ انہیں روک کر خبردار کیا کہ بات سیدھی اور سچی کرنا اور مجھے کوئی گگلی وغیرہ کرانے کی کوشش نہ کرنا، شیرو بہت برا مناتا ہے اور پھر حالات کی ذمہ داری تم پر ہو گی۔

مسرت زیب صاحبہ نے رازداری کے انداز میں بتایا کہ ملالہ کا ابا ضیا الدین یوسف زئی ان کا کلاس فیلو تھا اور وہ سکول کے دنوں سے ہی بڑا سازشی تھا۔ اس کی حرکتیں کافی غداروں والی تھیں۔ وہ بات کو دل میں رکھ لیتا تھا اور بدلہ لینے کی تاک میں رہتا تھا۔ وہ لڑکیوں کو چھیڑتا تھا اور اس جرم میں کئی دفعہ اسے سکول میں مار بھی پٹی۔ میں نے خود ایک دفعہ اس کی شکایت ملا فضل اللہ کو کی تھی وہ بھی ہمارے کلاس فیلو تھے اور بہت ہی شریف بچے تھے۔ ان پر جو احسان اللہ احسان نے اپنے استاد کی بیٹی سے زبردستی شادی والا الزام لگایا ہے میرے خیال میں تو وہ سراسر غلط ہے۔ وہ تو بہت شریف آدمی تھے۔

ملا فضل اللہ نے میری شکایت پر ملالہ کے ابا کو خوب پھینٹی لگائی تھی۔ اور اسے کہا تھا کہ ملالہ کے ابا آئندہ تم نے اگر ایسی حرکت کی تو تمہیں اس سے بھی زیادہ مار پٹے گی۔ ہم ساری لڑکیوں نے تالیاں بجا کر ملا فضل اللہ کو اس کی دلیری کی داد دی تھی۔ اور ملالہ کا ابا اور بھی شرمندہ ہوا تھا۔ اس نے اسی وقت اپنے دل میں سوچ لیا تھا کہ وہ ملا فضل اللہ اور طالبان سے اس بے عزتی کا بدلہ ضرور لے گا۔ یہ سازش اس وقت سے پک رہی تھی۔

تو آپ نے دیکھا جونہی طالبان سوات میں آئے اور اسلامی حکومت قائم کی ملالہ کا ابا ان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو گیا۔ ملالہ بھی اسی کی بیٹی تھی وہ بھی اپنے ابا کی ساری باتیں مانتی گئی اور آخر کار وہ طالبان سے اپنے بچپن کی بے عزتی کا بدلہ لینے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ یہ اصل کہانی ہے۔ اب آپ بتائیں کہ اس کہانی کو کیسے بریک کیا جائے۔

اس ساری کہانی کے دوران عمران اور شیرو میں گڑ کا بسکٹ ختم کرنے کا جو مقابلہ چل رہا تھا وہ تو برابر رہا۔ اب دونوں فارغ ہو گئے تھے۔ عمران اور شیرو نے ایک دوسرے کو، آنکھ ماری اور ہائی فائیو کیا۔ مسئلے کا حل سمجھ آ چکا تھا۔ عمران کو تسلی ہو گئی کہ شیخ رشید اور دوسرے اتحادیوں کو بلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

عمران نے کہا کہ کہانی تو ٹھیک ہی ہو گی لیکن اس وقت ہم ایسے بریک تھرو نہیں کر سکتے کیونکہ اس میں ملا فضل اللہ کا نام آ رہا ہے اور اس پر پاکستان تحریک انصاف کی نئی پالیسی ابھی نہیں بنی ہے۔ پرانی ان دنوں چلانی نہیں ہے۔ ویسے تو اب بھی 2013 کے الیکشن کی طرح ہی ہم پر وہ اعتماد کرتے ہیں لیکن ہم چونکہ ضرب عضب کی مذمت ایک دفعہ بھی نہیں کر سکے اس لیے ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اور تم تو کرکٹ کبھی کھیلی نہیں ہو ورنہ تمھیں پتا ہوتا کہ ایمپائر جتنا بھی نیوٹرل کیوں نہ ہو اس کی طرف سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی انگلی کی ضرورت کبھی بھی پڑ سکتی ہے۔

شیرو یہ سب سن رہا تھا۔ اس نے دخل اندازی کی تو عمران اور مسرت زیب دونوں ہمہ تن گوش ہوئے۔ شیرو نے کہا کہ سراج الحق سمیت ہم سب کو سازش کا تو علم ہے، لیکن اس کو بریک کچھ یوں کرو۔ امریکہ اور این جی اوز کے کچھ نمائندوں نے مل کر ملالہ کی سکول وین کو روکا اور اس کے سر پر سرخ رنگ سے بھرا ہوا گلاس آہستہ سے دے مارا۔ زیادہ رنگ تو ملالہ پر گرا لیکن کچھ اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی دو

اور لڑکیوں پر بھی گرا۔ ان تینوں کو جیسے ملالہ کے ابا نے کہہ رکھا تھا وہ بے ھوشی کا ڈرامہ کرنے لگیں۔ شور مچا اور کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا۔ آرمی کا ہیلی کاپٹر آیا اور ملالہ کو لے کر پشاور چلا گیا۔ وہاں پر ڈاکٹروں نے اسے جعلی مرہم پٹی کی اور خود پلاٹ اپنے نام کروانے چلے گئے۔ وہاں پر وہ طالبان نوجوان بھی تھا جس نے ملالہ پر سرخ رنگ کا بھرا ہوا گلاس پھینکا تھا۔ ان سب کو بڑے بڑے پلاٹ مل گئے اور وہ اپنے ضمیر کی آواز کو دبا کر بیٹھ گئے۔ سازش کے مطابق ملالہ اور اس کی فیملی ولایت چلے گئے اور طالبان کی بدنامی ہو گئی کہ وہ کیسے مرد ہیں، ایک چھوٹی سی لڑکی کو بھی ٹھیک طرح سے گولی مارنے کے قابل نہیں۔ اس طرح ملالہ کے ابا نے ایک تیر سے دو شکار کر لیے۔

عمران اپنے شیرو پر بہت اعتماد کرتا ہے کیونکہ شیرو نے ہی عمران خان کی کنٹینر والی ساری تقاریر لکھی تھیں۔ اس لیے کہانی تو پکی ہو گئی۔ ایک اور مشورہ شیرو نے یہ دیا کہ کہیں پریس کانفرنس بلانے کی غلطی نہ کر لینا۔ صحافیوں کو منہ لگانے کی ضرورت نہیں۔ ٹرمپ کی طریقے پر عمل کرو اور ٹویٹ کرو تاکہ لوگوں تک وہی بات پہنچے جو آپ نے کہی ہے۔ اور ہاں سارے ٹویٹ ایک ہی دفعہ نہ کر دینا۔ لوگوں کو ترسا کر اپنی بات کھولنا۔

مسرت زیب صاحبہ نے کچھ ٹویٹ کر دیے ہیں۔ سٹوری بریک ہو چکی۔ کچھ بریکنگ نیوز اور بھی آئے گی۔ یہ سب شیرو کے فیصلوں پر منحصر ہے۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.