مستقبل میں لوگ زیر سمندر شہروں میں زندگی بسر کریں گے، ٹائم ٹریولر کا دعویٰ

مستقبل میں لوگ زیر سمندر شہروں میں زندگی بسر کریں گے، ٹائم ٹریولر کا دعویٰ

لندن : برطانیہ میں 2030 سے آنے والے نوجوان نے دعویٰ کیا ہے کہ مستقبل میں کینیڈا، امریکا اور میکسیکو میں شامل ہوجائے گا اور تینوں ملکر ’ایک طاقتور ملک‘ بنائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق مستقبل یا ماضی سے حال میں آنے کے مناظر عموماً فلموں میں تو دکھے جاتے ہیں لیکن برطانیہ میں ایک نوجوان نے حقیقت میں سنہ 2030 سے آج کے زمانے میں آنے کا دعویٰ کیا تھا جو اب نئے نئے انکشافات سے دنیا کو مزید حیرت میں مبتلا کررہا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مستقبل سے آنے والے نوح نامی نوجوان نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی بڑتی ہوئی آلودگی ایک مسئلہ بن جائے گی جس کے باعث بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے ہوں گے۔

ٹائم ٹریولر نوح نے یوٹیوب کے چینل ایپکس ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ ’لوگ خلاء کا دورہ کرنے وہاں رہائش بھی اختیار کرریں گے اور ہمارے پاس زیر سمندر بھی شہر موجود ہیں‘۔

ٹائم ٹریولر کا کہنا تھا کہ دنیا کی بڑتی ہوئی آلودگی ایک مسئلہ بن جائے گی جو ہمیں مستقبل میں کچھ منفرد اور عجیب طریقوں سے زندگی گزارنے پر مجبور کرے گی۔

نوح نے دعویٰ کیا کہ ’اصل میں خود زیر سمندر آباد شہروں میں سے ایک کا دورہ کرچکا ہوں، میں آپ کو بتاتا ہوں وہ واقعی بہت کمال ہیں‘۔

نوح نے بتایا کہ ’آپ آبدوز سے سفر کریں گے جو آپ کو ایک بہت بڑے زیر سمندر شہر میں لے جائے گی جو ہر اس چیز سے مزین ہوگا جو زمین پر ہوتی ہیں‘۔

خیال رہے کہ 2017 میں دنیا بھر میں آلودگی کی سطح 7 اعشاریہ 5 ارب تک پہنچ گئی تھی، سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ زمین میں زمین 9 سے 10 ارب آلودگی اپنے اندر جمع کرنے کی صلاحیت ہے۔

مستقبل سے زمانہ حال میں آنے والے نوجوان نے دعویٰ کیا کہ سنہ 2028 میں کینیڈا، امریکا اور میکسیکو میں شامل ہوکر ایک طاقتور ملک تشکیل دے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں نوح خبروں کی شہ سرخیوں کی زینت بنا ہو بلکہ اس سے قبل بھی نوح کئی ایسے دعوے کرچکا ہے جس نے ساری دنیا کو حیرت زدہ کردیا تھا۔

نوح کا کہنا تھا کہ میں ماضی میں واپس آیا ہوں تاکہ لوگوں کو مستقبل کے حوالے حقیقت بیان کرسکوں‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ یوٹیوب پر جاری ہونے والی ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین نے تنقید اور طنز و مزاح سے بھرپور تبصرے کیے تھے، ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’2030 سے آنے والے شخص ہمارے جیسے کپڑے کیوں پہنے ہوئے ہیں‘۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.