"> غزہ میں جھڑپیں جاری، 23 فلسطینی اور چار اسرائیلی ہلاک ہو گئے | HamaraPedia.com

غزہ میں جھڑپیں جاری، 23 فلسطینی اور چار اسرائیلی ہلاک ہو گئے

World News

اسرائیل کی کارروائی میں ترکی کی نیوز ایجنسی اناتولو کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچا

غزہ کی پٹی پر اسرائیل اور عسکریت پسندوں کے درمیان تین روز سے جاری جھڑپوں میں اب تک چار اسرائیلی اور 23 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ غزہ کی جانب سے اسرائیلی علاقوں کو ہدف بنا کر 600 سے زیادہ راکٹ داغے گئے جس کے بعد جوابی کارروائی میں 320 فلسطینی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی کمیونٹی نے دونوں فریقین سے امن کی اپیل کے ہے۔

اتوار کی شب ملنے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ، قطر اور مصر جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے کوشش کر رہے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے اسرائیل کی جانب سے ابھی تک کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے

اسرائیل شام میں ’ایرانی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے‘

اسرائیل کا حماس کے خلاف غزہ پر بڑے حملے کا دعویٰ

اتوار کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ انھوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ میں دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دے۔

اسرائیل کے مطابق اس کی فضائیہ نے اب تک حماس کے 150 راکٹوں کو تباہ کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نتھن یاہو کے مطابق غزہ کی پٹی کے گرد موجود ان کے ملک کی افواج ’ٹینکوں، توپوں اور مسلح افواج کے ساتھ پیش قدمی کریں گی۔‘

اسرائیل نے غزہ کی پٹی کے گرد 40 کلومیٹر میں موجود تمام سکولوں کو بند کر دیا ہے جبکہ عوام کے لیے پناہ گاہیں کھولی گئی ہیں۔

ہلاک ہونے والے کون ہیں؟

اتوار کو عشقلان میں غزہ سے داغے گئے ایک راکٹ سے ایک 58 برس کا اسرائیلی شہری ہلاک ہوگیا۔ سنہ 2014 کے بعد یہ پہلا اسرائیلی شہری ہے جو غزہ سے داغے گئے کسی راکٹ سے ہلاک ہوا ہے۔

World News

مرنے والوں میں عام شہریوں سمیت ایک 12 سالہ بچہ اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں

روئٹرز کے مطابق ایک اور اسرائیلی شہری جو کہ ایک فیکٹری میں ملازم تھا اُس وقت ہلاک ہوا جب اُس پر غزہ سے ایک ٹینک شکن میزائیل داغہ گیا۔ مرنے والوں میں ایک 67 سالہ اسرائیلی شہری اور ایک 20 سالہ نوجوان بھی شامل ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں 23 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب اسلامی جہاد تنظیم نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی حملوں سے اس کے سات عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

مرنے والوں میں عام شہریوں سمیت ایک 12 سالہ بچہ اور ایک حاملہ خاتون بھی مبینہ طور پر شامل ہیں۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایک اور فوجی کارروائی کے دوران حماس کے ایک عسکریت پسند کمانڈر حامد ہمدان الخودری کو ہلاک کیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے الخودری جیسے حماس کے کسی سینئر لیڈر کو ہلاک کرنے کی پانچ برس میں یہ پہلی کارروائی ہے۔

World News

اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے مطابق راکٹ حملے مقامی وقت کے مطابق 10:00 بجے شروع ہوئے

حالیہ کشیدگی شروع کیسے ہوئی؟

جمعے کو ہونے والے ایک حملے میں دو اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کے بعد اسرائیلی حملے کے نتیجے میں چار فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے، جن میں حماس سے تعلق رکھنے والے دو عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

اسرائیل میں گذشتہ ماہ ہونے والے عام انتخابات کے دوران عارضی جنگ بندی کے بعد اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

یروشیلم میں بی بی سی کے نامہ نگار ٹام بیٹ مین کا کہنا ہے کہ امن کے لیے طویل عرصہ سے جاری مصر اور اقوام متحدہ کی کوششوں کے باوجود ایسی جارحانہ کاروائیوں میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسرائیل کی فضائی کارروائی میں ترکی کی نیوز ایجنسی اناتولو کے دفاتر کو بھی نقصان پہنچا، جس کی استنبول کی جانب سے شدید مذمت کی گئی۔

راکٹ حملے کب شروع ہوئے؟

اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے مطابق راکٹ حملے مقامی وقت کے مطابق 10:00 بجے شروع ہوئے۔

سنیچر کو کیے گئے راکٹ حملوں نے اسرائیلوں کو حفاظت کے لیے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اسرائیلی میڈیا نے ایشکیلون میں گھروں کو پہنچنے والے نقصانات دکھائے ہیں۔

World News

غزہ میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی رہائش پذیر ہیں جو اقتصادی طور پر اسرائیلی بندش اور غیر ملکی امداد میں حالیہ کمی سے متاثر ہوئے ہیں

آئی ڈی ایف کے مطابق ان کے آئرن ڈوم میزائیل سسٹم نے درجنوں راکٹ حملے ناکام بنائے۔

آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی طیاروں نے حماس اور اس سے تعلق رکھنے والے کم از کم 120 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ عسکریت پسندوں پر ٹینکوں سے بھی حملے کیے گئے۔

دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ مولوت چاؤ شولو نے ٹوئٹر پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ’عام شہریوں‘ کے خلاف اسرائیلی حملوں کو ’انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اناتولو کے دفاتر کو نشانہ بنانا اسرائیل کی بے قابو جارحیت کی نئی مثال ہے۔ اسرائیل کا بے گناہ افراد کے خلاف تشدد انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ہم فلسطین کے کاز کا دفاع جاری رکھیں گے۔‘

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے بھی اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اسرائیل کی جانب سے ترکی کی نیوز ایجنسی اناتولو کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

اردوگان کا کہنا تھا ’ہم اناتولو نیوز ایجنسی کے غزہ کے دفتر کو نشانہ بنانے پر پُرزور مذمت کرتے ہیں۔ ترکی اور اناتولو دنیا کو اسرائیل کی غزہ اور فلسطین کے دیگر علاقوں میں کی جانے والی دہشت گردی کے بارے میں بتاتا رہے گا۔ ‘

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.