خواب ہائے پریشاں کیوں؟

مجھے چند روز سے ایک ہی طرح کے خواب دکھائی دے رہے ہیں۔ جیسے مجھے مسافرت کی خاطر نکلنا ہے۔ کسی خواب میں سوٹ کیس کا دستہ ٹوٹ جاتا ہے۔ کسی میں ٹکٹ اور دستاویزات نہیں ملتیں۔ کسی میں کوئی اور اڑچن آ جاتی ہے۔ آج رات کا تازہ خواب یوں تھا جیسے کندھے پر ڈالنے والا ترپال کا بنا بستہ نما بیگ لے کر میں جانے کو نکلتا ہوں مگر راستے سے واپس آبائی گھر لوٹ آتا ہوں۔ یاد رہے آبائی گھر قصبے میں ہے اور نزدیک ترین ہوائی اڈہ ایک سو کلومیٹر دور ملتان میں ہے، جہاں سے میں نے کبھی روس کا سفر شروع نہیں کیا۔

mujahid-mirza

گھر آ کر کہتا ہوں اوہو میں اپنے کپڑے تو لے جانا بھول ہی گیا تھا، کوئی سوٹ کیس دو۔ یہ بات میں اپنی ماں سے کہتا ہوں جن کو فوت ہوئے انیس برس ہو چکے ہیں اور یوں بھی لگتا ہے جیسے شاید میری روسی بیوی کو میں نے یہ بات کہی ہو۔ ایک سوٹ کیس دیا جاتا ہے ویسا ہی جیسا روس میں میرے گھر پڑا ہے لیکن اسے ہم کہیں جانے کے لیے استعمال نہیں کرتے۔ پھر دکھائی دیتا ہے جیسے میری دو بڑی بہنوں نے میرے سارے کپڑے تہہ کرکے سوٹ کیس میں رکھ دیے ہیں، سوٹ کیس کھلا ہوا ہے۔ اس میں کافی جگہ باقی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ مجھے کچھ چیزیں نکال کر سوٹ کیس میں رکھ دینی چاہییں۔ ایک بہن کہتی ہے، نہیں آئیں گی اس میں۔ میں اور دوسری بہن بیک وقت کہتے ہیں، “ بڑی جگہ ہے سوٹ کیس میں“۔ تھیلے میں سے پانچ چھ کتابیں اور کاپیاں نکالتا ہوں، جن پر ہاتھ سے خاکی کاغذ چڑھایا گیا ہے، سوٹ کیس میں رکھواتا ہوں اور پوچھتا ہوں یہ کس کی ہیں؟ ایک بہن بتاتی ہے کہ بہو نے دی ہیں۔ بہو ہم بڑی بھابی کو کہتے تھے۔ بڑے بھائی جو والدہ کی وفات سے چند روز پہلے دنیا سے چلے گئے تھے، ان کے آٹھ دس ماہ بعد بڑی بھابی بھی اللہ کو پیاری ہو گئی تھیں۔ میں سوچتا ہوں کہ خاکی کاغذ اتروا دوں، حجم کم ہوگا۔ پھر سوچتا ہوں شاید وہ اسی طرح بچوں کے لیے بھیجنا چاہتی ہوں۔ ان کا ایک بیٹا جو میرا پیارا بھتیجا تھا، تین برس پہلے چالیس بیالیس سال کی عمر میں اپنی بیوی کو بیوہ اور دو بچوں کو چھوڑ گیا تھا۔ خواب یہیں تمام ہو جاتا ہے۔

ان خواب ہائے پریشاں میں میں خود کو اس عمر کا نہیں بلکہ 35 برس کا دکھائی دیتا ہوں، گھنے کالے بالوں والا۔ بہنیں جو مجھ سے بالترتیب گیارہ، بارہ برس بڑی ہیں، کے چہرے دکھائی نہیں دیتے لیکن جسموں اور تحرک سے لگتا ہے جیسے مجھ سے بھی کم عمر ہیں۔ پھر یہ کہ خواب میں بس یا ریل کا سفر درپیش نہیں بلکہ ہوائی جہاز کا ہی ہے۔ پاسپورٹ کا گم ہو جانا اور پہنچنے میں دیر ہونے کا احساس، ظاہر کرتا ہے۔ کئی دنوں کے ان خوابوں میں میں ایر پورٹ پہنچ ہی نہیں پاتا ہوں۔

بحیثیت ڈاکٹر مجھے معلوم ہے کہ خواب کبھی گہری نیند میں نہیں آتے۔ ہلکی نیند میں آتے ہیں۔ دل پر بوجھ بن جانے والے خواب جو خیال کی مانند ہوتے ہیں اور جنہیں عام اردو بول چال میں ”دباؤ پڑ گیا“ کہتے ہیں، گہری نیند میں داخل ہونے سے پہلے آتے ہیں۔ جبکہ باقی خواب گہری نیند سے نکلنے اور بیدار ہونے کے درمیان آتے ہیں۔ نفسیات کے طالبعلم کے طور پر یہ بھی سمجھتا ہوں کہ خواب درحقیقت خوف، خواہش، خدشے، امید و آرزو کا آمیزہ ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی مجھے کچھ خواب پریشان کر دیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری شخصیت کی تعمیر میں بچپن کا اہم کردار ہوتا ہے۔ بچپن میں جب آپ نے لوگوں کو ایک دوسرے کو خواب سناتے، تعبیریں کرواتے دیکھا ہو تو آپ کے لاشعور میں کہیں امید و آرزو کے ساتھ خوف بھی جا گزیں ہو جاتا ہے۔ چونکہ مسلمان ہیں چنانچہ قرآن میں درج خواب اور پیغمبر حضرت یوسف کی زبانی ان کی تعبیر کے بیان پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ ویسے قرآن میں درج یہ دو خواب بہت علامتی ہیں اور ان کی تعبیریں بھی امید بر آنے، خوف کے حقیقت بن جانے سے متعلق بہت نازک ہیں۔

میں تسلسل سے آنے والے اپنے اس خواب کی جانب آتا ہوں۔ میں گذشتہ برس کے ماہ ستمبر میں پاکستان گیا تھا اور اس برس مارچ کے وسط میں لوٹ آیا تھا۔ اول تو سال پورا نہیں ہوا، جب سال پورا ہو گا تب گرمیاں نزدیک آن لگیں گی۔ پاکستان کی گرمیوں سے میری ویسے ہی جان جاتی ہے۔ گذشتہ برس کے ماہ مارچ سے ایسا کوئی کام نہیں جس سے آمدنی ہوتی ہو۔ اخراجات ہی اخراجات ہیں چنانچہ بجٹ غیر متوازن چل رہا ہے۔ ٹکٹ مہنگے ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں میرے ایک بڑے بھائی اور تین بہنیں 75 برس سے زیادہ کے ہیں۔ پھر میری اپنی عمر کونسی کم ہے۔ ساٹھ کا عشرہ چل رہا ہے۔ ایک تو اپنے وطن جانے کی خواہش ہو سکتی ہے اور شاید نہ جانے کا قلق خواب میں نہ جانے کی وجہ بنتا ہو۔

اگر آپ غور کریں گے تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ خواب میں خود کو کبھی موجودہ عمر کا نہیں دیکھتے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تحت الشعور سے آپ کی پسندیدہ عمر کی تصویر لاشعور میں آتی ہو۔ بہنوں کا بڑھاپا نہ دیکھنا میری خواہش ہو سکتی ہے، چنانچہ میں انہیں جوانی کی حالت میں دیکھتا ہوں۔ ماں اور بیوی کا مشابہ ہونا بہت عام سی بات ہے۔ یہ محض شفقت و محبت کا گڈ مڈ ہونا ہے۔

ایک دوست کو جب میں نے ایسا ہی خواب سنایا تو اس نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ دیکھتے ہوئے کہا، “دیکھنا ڈاکٹر صاحب خیال کریں“۔ میں نے بھی ہنس کر کہا، “ لیکن میں جا نہیں پاتا“ تو بولا، “شکر ہے کہ نہیں گئے، یہ اچھی بات ہے“۔ دیکھا اس نے اپنی تعبیر کر لی۔ مذاق کا مذاق رہا اور عمر کے حوالے سے خدشہ بھی ظاہر کر دیا۔

کیا خواب پیشین گوئی کر سکتے ہیں؟ جی ہاں، قرآن بھی کہتا ہے اور خوابوں کی نفسیات کے ماہرین فرائیڈ اور جونگ بھی تصدیق کرتے ہیں۔ مگر پیش بینی کس بات کی؟ اسی خوف، خواہش، خدشے، امید، آرزو کے حقیقت میں ڈھل جانے کی۔ خواب کی تعبیر کے لیے انسانی نفسیات کے علاوہ دور تک دیکھنے کی صلاحیت کا ہونا بھی ضروری ہے۔
کوئی ماہر نفسیات یا پیش بین شخصیت اگر اور طرح کی وضاحت یا تعبیر بتانا چاہے تو ضرور بتائے، میں ممنون ہوں گا۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.