جرمن وکیل بغیر آرڈر کیے سو سے زائد پیزا ملنے سے پریشان

جرمنی میں ایک وکیل نے دھڑا دھڑ پیزا وصول ہونے پر پولیس میں رپورٹ درج کرادی اور کہا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی شخص روزانہ ان کے دفتر کے پتے پر پیزا بھیج رہا ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ 25 دنوں سے جاری ہے۔

ڈورٹمونٹ سے تعلق رکھنے والے وکیل گائیڈو گرول نے مقامی پولیس اسٹیشن میں رپورٹ لکھواتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس دیوانگی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں ہر گھنٹے کسی پیزا آرڈر کی ای میل موصول ہوتی ہے اور یہ سلسلہ صبح کے وقت سے شروع ہوجاتا ہے۔ بسا اوقات لنچ کے وقت دو یا تین پیزا بھی آجاتے ہیں۔ اسے وصول یا منع کرنے کےلیے انہیں بار بار اپنا کام چھوڑنا پڑتا ہے اور وہ اب شدید ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں۔

جرمن وکیل بغیر آرڈر کیے سو سے زائد پیزا ملنے سے پریشان

پیزاگردی سے تنگ آکر گائیڈو نے کہا کہ یہ پریشان کن ہے اور اس وجہ سے میں اپنے کام پر توجہ دینے سے قاصر ہوں۔ گزشتہ ڈھائی سے تین ہفتوں میں میرے نام پر 100 پیزا بھیجے جاچکے ہیں اور اس کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ گائیڈو کے مطابق شاید یہ ان کے کسی حریف کی حرکت ہے۔ ایک صبح 9 بج کر 20 منٹ سے لے کر 9 بج کر 47 منٹ کے وقفے میں انہیں 15 ای میلز موصول ہوئیں اور کوئی بھی اتنی تیزی سے پیزا آرڈر نہیں کرسکتا۔

پہلے وہ سمجھے کہ شاید ان کا کمپیوٹر کسی وائرس کا شکار ہوگیا ہے۔ کمپیوٹر سیکیورٹی ماہر کی جانب سے ان کے کمپیوٹر کو اچھی طرح چیک کیا گیا تو اس میں کوئی خرابی نہیں نکلی اور پیزا ان کے پاس بارش کی طرح برستے رہے۔ اب انہوں نے ای میل پر فلٹر لگا دیئے ہیں اور دن بھر وہ اپنا موبائل فون بند رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنی توجہ اپنے کام پر مرکوز رکھ سکیں۔

گائیڈو کو اب تک 100 پیزا موصول ہوچکے ہیں جس کے آرڈر انہوں نے کبھی نہیں دیئے تھے۔ اب اس کی پشت پر موجود شخص نے مینو تبدیل کرنا شروع کردیا ہے اور گزشتہ چند دنوں سے انہیں، سالن، یونانی کھانے اور جاپانی سوشی بھی موصول ہورہی ہے۔

پولیس نے اسے معاملے کو کسی کی جانب سے نظر میں رکھنا قرار دیا ہے نہ کہ یہ کوئی فراڈ ہے۔ دوسری جانب پریشان کرنے والا شخص کوئی مالی منافع بھی حاصل نہیں کررہا۔ گائیڈو نے اب تک ایک پیزا بھی قبول نہیں کیا ہے۔

جرمن قوانین کے تحت کوئی شخص دوسرے کی شناخت استعمال کرکے اسے تنگ کرے یا اس کا وقت ضائع کرے تو اس کی سزا سخت جرمانہ اور تین سال قید بھی ہوسکتی ہے۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.