برٹرینڈ رسل کے خطوط ۔۔میں ذکر ذوالفقار علی بھٹو!

zulfiqr ali bhutto

ایک ایسے معاشرے میں جہاں عمومی بیانیہ “ملک کو سیاستدان لوٹ گئے” کے گرد گھومتا ہو، جہاں آج بھی محفلوں میں آمریت و جمہوریت کا موازنہ کیا جاتا ہو، جہاں مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے ذمہ داروں کے تعین پر بحث میں بھٹو کو گھسیٹا جائے جبکہ اس سانحے سے پہلے کی پوری دہائی آمریت راج کرتی رہی ہو تو وہاں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دنیا کے عظیم فلسفی مفکر انسانیت دوست، مشرق کو مغرب کے استحصال سے نجات حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والے برٹرینڈ رسل، ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے۔

کیا یہ وہی برٹرینڈ رسل ہیں جن سے سربراہان مملکت ہاتھ ملانا اعزاز سمجھتے تھے؟

بھٹو کو کن جرائم کی سزا ملی تاریخ نے فیصلہ کر دیا ہے۔ بہت سی اہم دستاویزات اس تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہی اہم دستاویزات میں برٹرینڈ رسل کے خطوط جو انہوں نے بنام بھٹو لکھے یا جن میں بھٹو کا ذکر کیا اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔

بنیادی طور پر بھٹو کا قتل، کسی ملک کا نہیں بلکہ تیسری دنیا کا ایک ایسا المیہ ہے جسے بیان کرنے کے لیے یونانی ڈرامہ نگاروں کی سی تخلیقی قوت چاہیے۔ جیو میں ملازمت کے دوران مجھے ایک دستاویزی فلم “مقدمے کا قتل” بنانے کا اتفاق ہوا۔ یہ دستاویزی فلم بنیادی طور پر صرف مقدمے کے تکنیکی پہلوؤں کو زیر بحث لانے کے لیے بنائی جانی تھی۔ میرے سینئر پروڈیوسر اور مہربان آغا اقرار ہارون نے دستاویزی فلم پر تحقیق کرنے سے پہلے مجھے متنبہ کیا کہ ” اس کو خالص تکنیکی اعتبار سے دیکھو، دنیا بھر کے ماہر قوانین کی اس مقدمے کے حوالے سے کتابیں پڑھو، پورا مقدمہ کھنگالو ۔۔لیکن خدا کے لیے بھٹو کی طلسماتی شخصیت سے اس تحقیق کے دوارن تاثر نہ ہونا، ورنہ تحقیق متعصب ہو جائے گی”

میں نے دیانتداری سے کوشش کی لیکن مقدمے کی باریکیوں اور بھٹو کے جیل میں شب و روز کو پڑھنے کے دوران کسی انسان کے بس میں نہیں رہتا کہ وہ مسٹر بھٹو کی شاندار شخصیت کے طلسمات کا شکار نہ ہو جائے۔

بنیادی طور پر بھٹو کا قتل، کسی ملک کا نہیں بلکہ تیسری دنیا کا ایک ایسا المیہ ہے جسے بیان کرنے کے لیے یونانی ڈرامہ نگاروں کی سی تخلیقی قوت چاہیے۔ جیو میں ملازمت کے دوران مجھے ایک دستاویزی فلم “مقدمے کا قتل” بنانے کا اتفاق ہوا۔ یہ دستاویزی فلم بنیادی طور پر صرف مقدمے کے تکنیکی پہلوؤں کو زیر بحث لانے کے لیے بنائی جانی تھی۔ میرے سینئر پروڈیوسر اور مہربان آغا اقرار ہارون نے دستاویزی فلم پر تحقیق کرنے سے پہلے مجھے متنبہ کیا کہ ” اس کو خالص تکنیکی اعتبار سے دیکھو، دنیا بھر کے ماہر قوانین کی اس مقدمے کے حوالے سے کتابیں پڑھو، پورا مقدمہ کھنگالو ۔۔لیکن خدا کے لیے بھٹو کی طلسماتی شخصیت سے اس تحقیق کے دوارن تاثر نہ ہونا، ورنہ تحقیق متعصب ہو جائے گی”

میں نے دیانتداری سے کوشش کی لیکن مقدمے کی باریکیوں اور بھٹو کے جیل میں شب و روز کو پڑھنے کے دوران کسی انسان کے بس میں نہیں رہتا کہ وہ مسٹر بھٹو کی شاندار شخصیت کے طلسمات کا شکار نہ ہو جائے۔

جب ہم پروگرام پری ویو کرنے بیٹھے تو سیاہ سکرین پر ایک یونانی المیہ ڈرامہ کے بادشاہ سفوکلیز کا لکھا ایک جملہ سکرین پر ظاہر ہوتا ہےاور آغا اقرار ہارون صاحب مجھے گھورتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں کہ تمھیں متنبہ کیا تھا بھٹو کے طلسم کا شکار نہیں ہونا۔

میں نے کہا آغا صاحب کٹوا دیں ۔ لیکن آغا صاحب کیسے یہ جملہ کٹواتے وہ اس مقدمے اور بھٹو کی شخصیت سے کہیں زیادہ واقف تھے۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اور کہا ۔۔۔جانے دو!

بھٹو کی مغرب کے پنجوں سے مشرق کی جان چھڑانے کی کوششوں سے کافی لوگ واقف ہیں اور یہ ایک الگ تفصیلی موضوع ہے ۔ اس مضمون میں پڑھیے کہ برٹرینڈ رسل کی دوراندیش فکر کیا دیکھ رہی ہے؟

یہ خطوط عالمی رہنماؤں کے نام ہیں جن میں بھٹو کا ذکر کیا گیا۔ کئی خط طویل ہیں میں نے صرف وہی حصے رکھے ہیں جن میں بھٹو صاحب کا ذکر ہے۔۔۔

برما کے نی اون کئ نام ۔۔۔

ڈئیر نی اون

یہ مکتوب تحریر کرنے سے میرا مقصد تحسین کے ان جذبات کا اظہار ہے جو میں آپ کی آزادانہ پالیسیوں کے حوالے سے رکھتا ہوں۔ آپ کو ایشیائی استحکام کے لیے زبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو گا۔ مجھے اس کی شدت کا بخوبی اندازہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے معلوم ہوا کہ آپ لندن میں تھے۔ وہ بھی آپ کو ایشیا کا عظیم لیڈر قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے سے میرے ذاتی تاثرات کو تقویت ملی۔مجھے ذوالفقار علی بھٹو جیسے سچے قوم پرست اور ترقی پسند رہنماؤں پر امریکی دباؤ سے شدید تشویش ہے۔

تمام تر بہترین تمناؤں کے ساتھ۔۔

مخلص برٹرینڈ رسل

سپیکٹیٹر کے ایڈیٹر کے نام ۔۔۔

محترم ایڈیٹر

حالیہ تبدیلیوں کا علم رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ مغرب کی مفاد پرستانہ سیاست عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ قائدین کو اپنا اولین نشانہ بنانا چاہتی ہے۔ یہاں پر ان اسباب کا تجزیہ بے محل نہ ہو گا جن کی بنا پر مسٹر بھٹو کو ہدف عناد بننا پڑا، مسٹر بھٹو وہ پہلے لیڈر ہیں جنہوں نے نہر سویز کے مشرق میں بنائی جانے والی سامراجی پالیسیوں کو بے نقاب کر کے رکھ دیااور ہر موقع پر ان کے خلاف حقارت سے بھرپور تقریریں کیں۔ امریکی سازشوں سے ان کو وزارت خارجہ سے الگ کر دیا گیا۔ امریکیوں کا یہ فعل اس ڈرامے کا آغاز ہے جو وہ دوسرے ملکوں میں کھیل چکے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کا یوں ہٹا دیا جانا اس ملک کے مستقبل کے لیے ایک عظیم خطرہ ہے ۔

مخلص برٹرینڈ رسل

صدر ناصر کے نام ۔۔۔۔

ڈیر پریذیڈینٹ ناصر

میں نے امریکہ کی ان کوششو ں کو بڑی تشویش کی نظر سے دیکھا ہے جو وہ ایسے رہنماؤں کو تباہ کرنے کے لیے کرتا رہتا ہے جو بیرونی لٹیروں اور مغربی ملکوں کے دباؤ کی مزاحمت کرتے ہوئے عوام کے مفادات کو آگے بڑھانے کی سعی کرتے ہیں۔ مسٹر بھٹو بلاشبہ پاکستان کی آزادانہ خارجہ پالیسی کے معمار ہیں۔ حال ہی میں برطانیہ اور امریکہ نے بھٹو کو وزارت خارجہ سے ہٹانے کے لیے زبردست دباؤ سے کا م لیا۔ مسٹر بھٹو نے تن تنہا افریقی و ایشیائی استحکام کے لیے جدوجہد کی۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں واقعات ایسا رخ اختیار کریں گے کہ مسٹر بھٹو اقتدار میں آجائیں۔

آپ مجھے اپنے ملک کا دوست تصور کر سکتے ہیں۔ میری طرف سے آپ کے عوام کے لیے گرم جوشی سے مبارکباد

مخلص

برٹرینڈ رسل

صدر سوئیکارنو نے نام

پیارے صدر سوئیکارنو

میں یہ خط اس دباؤ پر اظہار ناپسندیدگی کے لیے لکھ رہا ہوں جو سچے قومی رہنماؤں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ میں گھانا میں رونما ہونے والے واقعات کو بڑی تشویش سے دیکھتا رہا ہوں۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے آپ کے متعلق اپنی بے پناہ پسندیدگی کے بارے میں بتایا۔مسٹر بھٹو نئی تبدیلی کے رہنما ہیں ۔ اس راہ میں کسی بھی تکلیف کا سامنا کرنا پڑے لیکن مجھے یقین ہے کہ جن پالیسیوں کے لیے آپ جیسے رہنماؤں نے زندگیاں وقف کی ہیں وہ عوام کی بھرپور تائید کی وجہ سے برقرا ر رہیں گی

مخلص

برٹرینڈ رسل

روسی وزیر خارجہ کے نام

ڈیر مسٹر گرومیکو

میں امریکہ سے اس دباؤ کو دیکھ رہا ہوں جو وہ ایسے رہنماؤں کے لیے استعمال کر رہا ہے جو وطن اور عوام سے مخلص ہیں۔ حال ہی میں مسٹر بھٹو کو ہٹایا گیا۔ مسٹر بھٹو پاکستان کی آزادانہ خارجہ پالیسی کے خالق ہیں اور انہوں نے سوویت یونین کے ساتھ تیل کا معاہدہ کر کے دونوں ملکوں کو قریب لانے کی کوشش کی ہے۔ روس اور چین کے ساتھ روابط کو مضبوط کیا ہے۔۔

مخلص

برٹرینڈ رسل

اردشیر زاہدی کے نام

ڈئیر مسٹر زاہدی

میں توجہ سے ان مثبت اقدامات کا جائزہ لیتا رہتا ہوں جو آپ کی حکومت نے مشرقی یورپ کے ساتھ تعلقات بڑھانے اور خومختاری کی بنیادوں پر ترقی کرنے کے لیے کیے ہیں۔ امریکی امداد سے نجات حاصل کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔

مسٹر بھٹو جن سے میں کافی عرصہ سے تبادلہ خیال کر رہا ہوں اور جن کی آرا ء کی میں بے حد قدر کرتا ہوں انہوں نے بھی آپ کی بہت تعریف کی ہے۔ وہ آپ کو ایک ایسا رہنماخیال تصور کرتے ہیں جو اپنے ملک کے لیے حقیقی ترقی پسندانہ سوچ رکھتا ہے ۔ ۔۔۔

نیک تمناؤں کے ساتھ

برٹرینڈ رسل

چینی ناظم الامور کے نام ۔۔

ڈئیر شینگ شیانگ

آپ جانتے ہوں گے کہ ویت نام جنگ کے حوالے سے میں جنگی جرائم کا ٹربیونل تشکیل دینے کے لیے سرگرمی سے کام کرتا رہا ہوں۔ میری شدید خواہش ہے کہ اس سلسلے میں مجھے عوامی چین کا تعاون حاصل ہو۔

مجھے امید ہے کہ آپ کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ سیاسی طور پر آپ جناب ذوالفقار علی بھٹو کی مدد جاری رکھ سکیں۔ یہ بھٹو ہی تھے جو چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور ترقی پسند انسانیت کے مقصد کو آگے بڑھانے کی پالیسی روبہ عمل لائے۔ میں یہ جاننے کا معقول جواز رکھتا ہوں کہ انہوں نے چین کے ساتھ دوستی کی پالیسی مرتب کرنے کے لیے سخت جدوجہد کی۔ اپنے مالی فوائد کے خاطر امریکی مفادات کی خدمت کرنے والے عناصر ان کی بری طرح

مخالفت کررہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں حالات ایسا رخ اختیار کر رہے ہیں کہمسٹر بھٹو

اقتدار میں آئیں گے، ایوب کے کردار نے عوا م کو مایوس کر دیا ہے اور یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ اب وہ پوری طرح امریکی اثرات میں آچکا ہے،وہ تیز رفتاری اس امر کی شاہد ہے جو اس نے پالیسی تبدیل کرنے میں دکھائی ہے۔ یہ تبدیلی دغابازی کی حدود کو چھو رہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ بھٹو کی اقتدار میں واپسی کوئی دور کی بات نہیں۔ میرے نزدیک عوامی چین کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ مسٹر بھٹو کا ساتھ دیتے ہوئے اس امکان کا آگے بڑھائے۔ مجھے امید ہے کہ یہ خیالات پیکینگ تک پہنچا دیے جائیں گے

ہر چند یہ محض تاثرات ہیں لیکن یہ بڑی ٹھوس بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔

نیک تمناؤں کے ساتھ

برٹرینڈ رسل

ایڈیٹر اکانومسٹ کے نام

سر

اکانومسٹ پر بھٹو پر کی گئی تنقید کو ماضی کے سیاق و سباق کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ مغربی ممالک کی نظروں میں مسٹر بھٹو کا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے لیے آزادانہ پالیسی مرتب کی۔ جس کی وجہ سے ان کا ملک ان ملکوں سے علیحدہ ہوگیا جو امریکی سامراج کے دم چھلے ہیں۔ مسٹر بھٹو کی مقبولیت صرف لندن تک محدود نہیں ہے بلکہ اور بھی کئی ہیں جو ان کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں اور ان کی آزادانہ اور خود مختارانہ پالیسی کے مداح ہیں جو ان کے اپنے ملک اور افریقہ، ایشیا لاطینی امریکہ کے عوام کے معاشرتی تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔

آپ کا مخلص

برٹرینڈ رسل

پاکستان کے سیکرٹری امور خارجہ کے نام

ڈئیر مسٹریوسف

میں یہ خط آپ کو مسٹر ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے بارے میں بتانے کے لیے لکھ رہا ہوں۔ مسٹر بھٹو میرے دیرینہ دوست ہی نہیں بلکہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کی ذات پر میں مکمل اعتماد رکھتا ہوں۔ انہوں نے آپ کے متعلق اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ ترغیب و تحریص سے بالاتر دیانت کے ساتھ آپ دونوں نے برسوں ایک دوسرے کے ساتھ کام کیا ہے ۔ پاکستان کے حقیقی مفادات کے ساتھ آپ کی گہری وابستگی بالکل واضح ہے۔

مخلص

برٹرینڈ رسل

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.