ایران پاکستان کی سرحد پر گولے کیوں برساتا ہے؟

ریاض سہیل

ایران پاکستان کی سرحد پر گولے کیوں برساتا ہے؟

ایرانی فورس رات کو بڑے بڑے گولے مارتی ہے جس کی وجہ سے بچے سوتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔ تالاپ گاؤں کے رہائشی قیوم نے یہ بات بتانے ساتھ ٹوٹی پھوٹی اردو میں مجھے متنبہ کیا کہ اگر سورج غروب ہونے کے بعد میں یہاں آتا تو ہماری گاڑی پر بھی گولیاں برسائی جاتیں۔

تالاپ ایران سرحد پر واقع پاکستان کا گاؤں ہے جہاں سے صرف نصف کلومیٹر دور ایرانی سرحد موجود ہے، اس گاؤں کے ایک طرف ایرانی چوکی ہے تو عقب میں پاکستان کے ایف سی کا قلعہ واقع ہے جبکہ ساتھ میں ہی لیویز کا تھانہ ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف میں سنی بلوچ آبادی موجود ہے۔

قیوم کے پاس پانچ کلو گھی کے خالی ڈبے میں ان راکٹوں کے ٹکڑے موجود ہیں جو ان کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے فائر کیے گئے ہیں جبکہ ان کی دکان کے دروازے کا رخ بھی سرحد کی طرف ہے۔ انھوں نے مٹی سے بنے ہوئے دکان کی دیواریں بھی دکھائیں اور بعض سوراخوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ گولیوں کے نشانات ہیں۔

قیوم نے بتایا کہ انھوں نے اس شیلنگ اور فائرنگ کی شکایت ایف سی کو کی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، اسلام آباد رابطہ کرو‘ جس کے بعد انھوں نے اپنے رکن صوبائی اسمبلی عارف جان کو بھی شکایت کی تھی انھوں نے کہا کہ بات کرتا ہوں لیکن ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی۔

تالاب تافتان سے تقریبا 40 کلومیٹر دور ضلع چاغی کا گاؤں ہے، پاکستان اور ایران بارڈر 904 کلومیٹر پر مشتمل ہے، جس میں بلوچستان کے چاغی کے علاوہ واشک، پنجگور، کیچ، تربت اور گودار اضلاع شامل ہیں۔

نجیب اللہ مقامی زمیندار ہیں انھوں نے ہمیں راکٹ کے دو ٹکڑے دکھائی جو ان کے ٹیوب ویل کے قریب گرے تھے، انہوں نے بتایا کہ اگر یہ ٹیوب ویل کو لگ جاتے تو معاشی نقصان ہوتا اگر کسی بندے کو لگ جاتا تو جانی نقصان ہوتا۔ بقول ان کے ایسی مشکل سے ہی کوئی رات ہوگی جب اس طرح سے فائرنگ نہ ہو یا گولہ نہ مارا جاتا ہو۔

تافتان سے لے کر تالاب تک آس پاس کے گاؤں میں بچے کھیلتے کودتے نظر آتے ہیں جبکہ تالاب میں ڈر و خوف محسوس کیا جاسکتا ہے، یہاں جیسے ہی جیسے سورج غروب ہوتا ہے لوگ گھروں میں بند ہوجاتے ہیں۔

گاؤں کی آبادی ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل تھی لیکن نصف درجن کے قریب گھرانے نقل مکانی کرچکے ہیں۔ یہاں ایک سرکاری سکول بھی واقع ہے لیکن بند رہتا ہے جبکہ بچے مدرسے میں پڑھتے ہیں۔

دھماکوں کی وجہ سے گھروں کے ساتھ لیویز کے تھانے کی دیواریوں میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں، تھانے کے اندر نصف درجن کے قریب ڈھائی سے تین فٹ کے میزائلوں کے خول موجود تھے خدائے نذر نامی لیوی اہلکار نے بتایا کہ یہ ایران کی طرف سے آتے ہیں فائرنگ اور دھماکے دن رات ہوتے ہیں۔

’کوئی چراہاوا ہو کسان یا مزدور اور قریبی نالے اور زمین پر بھی نہیں جانے دیتے فائرنگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے آس پاس میں کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘

ایران اور پاکستان سرحد پر کچھ حصے میں دیوار کھڑی کی گئی ہے جبکہ کچھ علاقوں میں باڑ لگائی گئی ہے لیکن دو دہائی قبل تک ایسا کچھ نہیں تھا تالاپ کے رہائشی بتاتے ہیں کہ وہ سرحد کے اس طرف جاتے تھے اور وہاں سے یہاں لوگ آتے تھے۔

پاکستان سے گذشتہ ہفتے چار ایرانی سکیورٹی گارڈز کو رہا کیا گیا ہے، 16 اکتوبر کو سیستان کے علاقے میر جاوا سے سکیورٹی گارڈز کو اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے اب تک 9 رہا ہوچکے ہیں ایران حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں جیش عدل نے تنظیم نے اغوا کیا تھا۔ یہ رہائی چاغی ضلع سے ہی عمل میں آئی تھی۔

جیش العدل سنی شدت پسند تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالماک ریگی کی گرفتاری اور پھانسی کے بعد بنائی گئی تھی، یہ گروپ 2005 میں اس وقت کے صدر احمد نژاد پر حملے سمیت متعدد دھماکوں اور حملوں میں ملوث رہا ہے یہ کارروائیاں زیادہ تر بلوچستان کے سرحدی صوبے چار باہ اور زاہدان میں کی گئی ہیں۔

تالاپ کے رہائشی نوجوان نجیب اللہ کا کہنا ہے کہ ایرانی فورسز کا ٹارگٹ یہ ہی ہوتا ہے کہ یہاں جو لوگ رہتے ہیں انہیں یہاں سے جانا چاہیے، وہ فائرنگ کرتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ جنداللہ والے ہیں منشیات فروش ہیں یہ سب جھوٹ ہے، اس قدر شدید فائرنگ ہوتی ہے کہ ہم گھر سے بھی نہیں نکل سکتے۔”

ڈپٹی کمشنر چاغی فتح خان خجک فائرنگ کے واقعات کی تصدیق کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ تالاپ کے ساتھ ہوشاب میں بھی فائرنگ ہوئی تھی جس پر انھوں نے ایرانی حکام سے احتجاج کیا تھا جس کے بعد یہ طے ہوا تھا کہ اگر آئندہ ایسی خلاف ورزی ہوگی تو میر جاوا ( ایران کا ضلعہ) کے افسر اور یہاں سے وہ ساتھ موقعے پر جائیں گے۔

’افغانستان سے منشیات کے اسمگلر یہاں سے ہوکر ایران میں داخل ہوتے ہیں گو کہ ہماری طرف سے بھی گشت ہوتا ہے ایف سی ہے لیویز ہے لیکن انہیں جہاں شک پڑتا ہے تو وہ فائرنگ کرتے ہے۔ ہم نے انہیں کہا ہے کہ ہمیں آگاہ کریں ہم نکلیں گے ایسا نہ ہو کہ مقامی آبادی کو نقصان پہنچے۔‘

ایران اور پاکستان میں مختلف تین سطح پر بارڈر کمیٹیاں موجود ہیں جن میں مقامی اسٹنٹ کمشنر سے لے کر چیف سیکریٹری سطح کی کمیٹی شامل ہے جس میں ایف سی اور کوسٹ گارڈز بھی شامل ہیں۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.