امریکہ نے لیزروں سے لیس خطرناک ڈرونز کی تیاری شروع کردی

امریکی محکمہ  دفاع نے ایسے خطرناک ڈرونز کی تیاری شروع کردی ہے جو لیزر سے لیس ہونگے اور اس قابل ہونگے کہ وہ دشمنوں کے میزائلوں کو انکے داغے جانے سے قبل ہی تباہ کردینگے۔لیزر سے  نئے ڈونز کو مسلح کرنے پر امریکہ 6 کروڑ 60لاکھ ڈالر خرچ کریگا۔ امریکی میزائل ڈیفنس ایجنسی نے اس سلسلے میں مختلف اداروں اور افراد سے مقدور بھر مالی تعاون کی درخواست کی ہے اور کہا ہے کہ جب یہ ٹیکنالوجی حاصل ہوجائیگی اور منصوبہ مکمل ہوجائیگا تو امریکہ گوام ، جاپان اور ہوائی میں اپنی تنصیبات اور اڈوں کو شمالی کوریا کے حملوں سے بہتر طور پر محفوظ  رکھ سکے گا۔

امریکہ نے لیزروں سے لیس خطرناک ڈرونز کی تیاری شروع کردی

باخبر ذرائع کا کہناہے کہ یہ منصوبہ محکمہ خفیہ کے چند بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق لیزر سے لیس ان ڈرونز کا تجربہ 2020ء سے شروع کردیا جائیگا۔ محکمہ دفاع کے حکام کو امید ہے کہ میزائل کا تعاقب کرنے کے حوالے سے جو ٹیکنالوجی امریکی محکمہ دفاع نے تیارکی ہے اس سے امریکی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوگا اور وہ زیادہ بہتر طورپر اپنے دشمنوں کے حملوں کا جواب دے سکے گا۔امریکی محکمہ دفاع کا کہناہے کہ وہ لیزر سسٹم پر کچھ عرصے سے کام کررہی تھی اور مطلوبہ فنڈز حاصل ہوگئے تو جلد ہی یہ اس منصوبے کو  ہر طرح سے موثر اور کامیاب قرار دیا جاسکے گا۔ اب تک جتنی کامیابی اس سلسلے میں حاصل ہوئی ہے اس سے  سالڈ اسٹیٹ فائبر لیزر  کے شعبے میں استعمال ہونے والی اور اختراع کی جانے والی ٹیکنالوجی کی رہین منت کہا جاسکتا ہے۔ ان ہتھیاروں کی تیاری میں  ویسے ہی فائبر آپٹکس استعمال ہوتے ہیں جو عصری مواصلات میں کیبل کا کام کرتے ہیں اور اپنی قوت اور مضبوطی کے اعتبار سے دوسرے لیزر سے کہیں زیادہ موثر ثابت ہوتے ہیں۔ محکمہ دفاع نے منصوبے کو ہر اعتبار سے کامیاب بنانے کیلئے  9ارب 90کروڑ ڈالر کے جس بڑے منصوبے پر کام شروع کیا ہے 2019ء تک  اس فنڈ میں سے  خاطر خواہ رقم  لیزر ٹیکنالوجی پر خرچ ہوگی۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.